ایک شہزادے کی سالگرہ


آپ سوچ رہے ہونگے کہ سرکارِدوعالم حضرت محمد ﷺ کی سالگرہ کے دن مجھے کونسا شہزادہ یاد آگیا ؟ جو اسکی یاد میں مینے یہ تحریر لکھی ۔  درحقیقت میرے مسیحی بھائی خوب جانتے ہیں کہ میں یہاں کس شہزادے کا ذکر کررہاہوں ، وہ بات اور ہے کہ وہ ماننے کے لئے تیار نہیں۔

 

جی تو میں یہاں جس شہزادے  کا ذکر کررہاہوں وہ نبی ِآخر زماں حضرت محمد ﷺ ہی ہیں جنہیں حضرت عیسیٰ ؑ (یسوع مسیح) نے اس  دنیا کاشہزادہ قرار دیا ہے ۔

Hereafter I will not talk much with you: for the prince of this world cometh, ……….. (John.14 : 30 ) (Bible King James Version)

 

حالانکہ پرنس آف دس ورلڈ کا صحیح ترجمہ تو اس دنیا کا شہزادہ ہوگا مگر بائبل کے علماء   ترجمہ کرنے کی صلاحیت میں اپنا مقام آپ رکھتے ہیں وہ ہمیشہ ثبوت آگے پیچھے کرتے رہتے ہیں، شاید اسی وجہ سے یہاں بھی  دنیا کا سردار ترجمہ کردیا گیا ۔  خیر جو بھی ہو سچائی اپنے ثبوت کہیں نہ کہیں چھوڑ دیتی ہے ۔  ویسے بھی دنیا کا سردار ہو یا شہزادہ بات تو ہمارے نبی کی ہی ہو رہی ہے ۔

پھر اسی طرح سے حضرت یحیٰ ؑ   جسے عیسائی(یوحنا اصطباغی ) کے نام سے جانتے ہیں ،  انہوں نے بھی ہمارے نبی ﷺ کے شان میں یہاں تک فرمادیا کہ

 

ان آیات سے ایک مسلمان چاہے عیسائی کو اس بات کا اندازہ ہوجاناچاہیے حضرت محمد ﷺ کی پیدائش سے پہلے ہی انکا کس شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا ، خدا کے مقدس انبیا جس میں حضرت موسیٰ ؑ ، حضرت عیسیٰ ؑ ، حضرت یحیٰ ؑ  کس قدر ادب و احترام سے نبی ِ آخر زماں حضرت محمد ﷺ کا تذکرہ کرتے رہے ہیں ، اور یہ فہرست یہاں ختم نہیں ہوجاتی بلکہ حضرت داوٗد ؑ حضرت سلیمان ؑ کے علاوہ ہندو مذہب ، پارسی مذہب ، بدہ مذہب  میں بھی رسول اللہ ﷺ کا ادب و احترام و انتظار پایا جارہا تھا ۔

 

حضرت سلیمان ؑ نے آپ ﷺکو اپنا محبوب اور دوست قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں

جس کا منہ ازبر شیریں ہے  ، ہاں یہ محمد (ﷺ) ہیں ، یہ میرے محبوب ہیں ، یہ میرے دوست ہیں   ۔  اے یروشلم کی بیٹیو! (نشید النشاد ۔ باب ۵ آیت ۱۶)

 

اگر میں یہ کہوں کہ ماضی کا تمام انتظار ، ادب و محبت اس لئے تھی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ ﷺکو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجنا تھا  تاکہ آپ ﷺ نبوت کے سسلسے کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں ۔  تو اس کا مقصد یہ ہوا کہ حضور ﷺ کی آمد باعث رحمت ہے (کہ خدا نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا )

 

حضور ﷺ  کی آمد باعث ہدایت  ہے تاکہ خدا  کے بھٹکے ہوئے بندے راہِ راست پاسکیں

حضور ﷺ  کی آمد باعث بخشش ہے تاکہ خدا کے بندے اپنے رب کا عرفان حاصل کرسکیں اور اپنے گناہوں کی بخشش طلب کر سکیں۔

 

لیکن افسوس صد افسوس کہ شیطان مردود نے اس بابرکت دن کو باعث فساد بنادیا کہ اسی روز مسلمانوں میں چھپے مفسدیں  ایک دوسرے کا گلا کاٹنے دوڑتے ہیں ، کسی کے نزدیک یہ دن منانا  فرض تو کسی کے نزدیک یہ دن منانا شرک کسی کے نزیک یہ عشق کا تقاضا ہے تو کوئی اسے کچھ قرار دیدیتا ہے ۔

اللہ اکبر ۔ کس قدر عجیب ہے کہ  مسلمان جس ہستی کی بدولت مسلمان کہلاتے ہیں اسی ہستی کے نام پر ایک دوسرے کو کافر کہتے پھرتے ہیں صرف اس لئے کوئی اس دن کو منانا نیکی تصور کرتا ہے تو کوئی اس دن کو منانا گناہ ۔  کیا معاذاللہ ثم معاذاللہ حضور پاک ﷺ کی آمد مسلمانوں کو کافر بنانے کے لئے تھی ۔ نہیں ہرگز نہیں ۔ رسول  اللہ ﷺ کو تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس لئے بھیجا کہ آپ کافروں اور گمراہوں کو سیدھے راستے پر لا سکیں ، اور حضور ﷺ کے بعد یہ کا م حضور ﷺ کی امت کو کرنا ہے ۔

 

لیکن امت کا تو حال  ہی نرالا ہے ، یہ رسول اللہ ﷺ کی یہ سنت کیا ادا کریں گے جو خود رحمت اللعالمین کے نام پر  اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو کفر کے ایندھن میں دھکیلتے پھرتے ہیں۔ یہ کافروں کو کیا سیدھے راستے کی دعوت دیں گے ۔ یہ کفار کو اپنے دین کے بارے میں کیا بتائیں گے ۔

کہ ہم میں نماز پر بھی جھگڑے ہیں ۔ روزے کی سحر و افطار میں بھی جھگڑے ہیں۔ قرآن کے تفاسیر پر جھگڑے ہیں ، امامت پر بھی جھگڑے ہیں ۔ خلافت پر بھی جھگڑے ہیں۔  وغیرہ وغیرہ

سامنے والا کافر تو لاکھ شکر کہے گا کہ میں کافر ہوں کم از کم زندگی پرسکوں تو گذر رہی ہے ، شکر ہے کہ مسلمان نہیں ہوں ورنہ ہر مہینے کسی نہ کسی بات پر جھگڑے کی تیاری کرنی پڑتی ۔

میرے پیارے مسلمان بھائیو اور بہنوں  خدا کے واسطے اسلام کو فساد کا سبب مت بنائو یہ  ہمارا دین تو خدا کی رحمت ہے  جسے خدا  نے رسول اللہ ﷺ کی ذریعہ ہم تک پہنچایا تاکہ ہم آپس میں  بھائیوں کی طرح زندگی جیئیں۔

 

رسول اللہ ﷺ کی سالگرہ منانا نا تو فرض ہے ناہی سنت اور ناہی صحابہ کرام نے کبھی منائی اگر  آپ منانا چاہتے ہیں تو یہ آپ کی محبت کا تقاضاہے  اسے نفرت اور فساد کا سبب نہ بننے دیں۔ اور اگر آپ صحابہ کرام کے طریقے کو پسند کرتے ہوئے آپ ﷺ کی سالگرہ نہیں مناتے تو  اس میں کوئی ہرج نہیں لیکن جو محبت  کی خاطر حضور ﷺ کی سالگرہ منارہے ہیں انکے گریباں چاک نہ کریں ۔ آپ  سب آپس میں بہائی ہیں ، اور بہائیوں کی طرح رہنا سیکھیں ۔

 

جب بچے غلط راستہ اپنالیتے ہیں ہو تو والدیں کو شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری ان شرارتوں کی وجہ سے اسلام بدنام ہو ۔اور کل قیامت کے دن  تم نبی پاکﷺ کے سامنے شرمسار ی کی حالت میں پیش کیئے جائو

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s