رات کیوں ہوتی ہے ؟


کیا اہل ِزمیں کے لئے یہ کافی نہ تھا کہ وہ دن میں ہی جیتے ، ساری زندگی دن ہی ہوتا ، جب وہ  کام سے تھک جاتے تو تھوڑی دیر کے لئے سولیتے  اور پھر بیدار ہوکر کام کاج میں مصروف ہوجاتے ، نہ صبح ہوتی نہ شام ہوتی اور نہ ہی کبھی سورج غروب ہوتا کہ رات آتی ،  لیکن ایسا کیا ہے کہ ہمارے پروردگا ر نے ہماری زندگی کا نصف حصہ رات پر مشتمل کردیا اور نصف دن پر ، یقیناََ کچھ تو ایسا ہے

اور خدا ہی رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے۔ اہل بصارت کے لئے اس میں بڑی عبرت ہے(24:44)

رات

دن

رات

دن

رات

دن

رات

دن

رات

دن

ہماری زندگی  ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خدا تبارک و تعالیٰ نے رات اور   دن کے آنے جانے کو اہل بصارت کے لئے عبرت قرار دیا ہے ، اگر آپ مندرجہ بالا نقش پر نظر ثانی کریں تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہماری زندگی کا سفر تو رواں دواں ہے مگر دن اور رات مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں ، اگر اس کا مطلب فی الحال ہم کچھ بھی نہ لیں تب بھی اتنا تو  واضح ہوہی جائے گا کہ کچھ بات تو ہے جو ہم سے پوشیدہ ہے ، اور یہ پوشیدگی خدا کی طرف سے نہیں بلکہ خود ہماری طرف سے ہے کہ ہم نے اس راز کو راز کبھی سمجھا ہی نہیں اس لئے کبھی اس پر تفکر بھی نہیں کیا ۔ پھر تو یہ پوشیدہ ہی رہنا تھا ۔

آوٗ سوچیں

دن کو روشن کرنے کے لئے قدرت نے سورج کو مقرر کیا

اور رات کو روشن کرنے کے لئے چاند  کو مقرر کیا

دن میں تیز روشنی کا اہتمام کیا گیا ،

اور رات کی لائیٹنگ  ۲۹ سے ۳۰ اقسام پر مشتمل ہے ، جس میں چند راتیں گہرے اندھیرے میں گذرتی ہیں  تو چندروشن  ہوتی ہیں  چند راتیں  روشن شروع ہوتی ہیں اور اندھیرے پر ختم  تو چند راتیں اندھیرے سے شروع ہو کر روشنی پر ختم ،

دن میں درجہ حرارت بڑھا دیا جاتا ہے ،

اور رات میں درجہ حرارت کم کردیا جاتا ہے ۔

دن کا میوزک پرندوں کی چہچاہٹ ، یہ مختلف علائقوںمیں مختلف ہوتا ہے

اور رات کا میوزک سناٹا ۔ یہ مختلف علائقوںمیں مختلف ہوتا ہے

دن کا آسمان ہلکا نیلا  جس پر سورج کی تیز کرنے جو آپکو نظریں جھکانے پر مجبور کردیں اگر آپ ہمت کرلو آسمان میں دیکھنے کی تب بھی وہ ایک ہلکے نیلے رنگ کا پردہ آپکی نگاہ کو ناکام کردے گا اور آپکی نگا ہ اسے سے آگے کو نہیں جاپائے گی ، باالفاظ ِ دیگر گویا کہ دن کا آسمان یہ تاثر دے رہا ہوتا ہے کہ اس سے آگے کوئی دنیا ہے ہی نہیں ،

اور رات کا آسمان گہراسیاہ  جس پر چاند کی ہلکی پیاری روشنی جو آپکو بار بار آسمان میں دیکھنے کی دعوت دی رہی ہوگی اور جب آپ دیکھیں گے تو اب کوئی پردہ حائل نہیں ، گویا کہ دن میں کوئی پردہ تھا جب اب ہٹایا جا چکا ہے ، اور ایک وسیع کائنات آپکی نگاہ اور تفکر کی منتظر ہوگی ۔

جب ہم قدرت کی اس حسین و دلکش مہارت پر غور فکر کرتے ہیں تو ہم پر یہ راز کچھ قدرکھلنے لگتا ہے  کہ قدرت نے دن کو ہمارے کام اور رات کو ہمارے آرام کے لئے مقرر کیا ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا

وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں تسکین پاوٗ  اور روز روشن بنایا ( تاکہ اس میں کام کرو) 10:67

گویا کہ جب ہم دن میں کام کاج کرتے ہیں اس وقت ہم شعوری زندگی جی رہے ہوتے ہیں ، لیکن جونہیں ہم رات کو سونے کے لئے بستر پر لیٹتے  ہیں تو ہم لاشعور میں چلے جاتے ہیں ، اور ہمارا جسم ایک مخصوص پروسس سے گذر رہا ہوتا ہے ہمارا ذہن دن بھر کی یاداشتوں کو ٹھکانے لگاتا  ہے ، پھر کسی سے دن میں کوئی تیزکلامی ہوگئی دل نے چاہا کہ اس کی کھٹیا کھڑی کی جائے ۔ تو لیجئے صاحب آپکے لاشعور نے یہ کام بھی کردیا اب آپ خواب میں اس بندے کی حالت خراب کر رہے ہیں ، خوب بدلا لے لیا صبح ہوئی دفتر میں اسی شخص سے پھر ملاقات ہوئی  لیکن آج آپ اسے معاف کرنے کا سوچ رہے ہیں کہ چلو جی رات گئی بات گئی ۔  مینے تمہیں معاف کیا ۔ حالانکہ آپ اپنا خواب بھلا چکے ہیں آپ اسے مزا چکھا چکے تھے اس لئے تو صبح اتنے پرسکوں ہوکر اٹھے۔ورنہ جو مسئلا کل آپکی نیند حرام کررہا تھا آج اس سے کوئی فرق کیوں نہیں پڑرہا ۔ ؟؟؟؟  یوں سمجھ لیں کہ ہم اپنی زندگی کا   نصف حصہ شعوری حالت میں اور نصف لاشعوری حالت میں گذارتے ہیں ۔  دن کو ہمارا جسم مصروف ِ عمل رہتا ہے اور رات میں روح   افلاک کے سیر کرتی رہتی ہے  اور یوں زندگی کا کارواں چلتا رہتاہے بس پھر جس کوبلاوا آجاتا ہے وہ وہیں سے روانہ ہوجاتا ہے ۔

اور وہی تو ہے جو رات کو (سونے کی حالت میں) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس کی خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اٹھا دیتا ہے تاکہ معین مدت پوری کردی جائے پھر تم (سب) کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (اس روز) وہ تم کو تمہارے عمل جو تم کرتے ہو  بتائے گا۔ 6:40

لیکن یہ تفکر  کافی نہیں ابھی تو اس میں بہت سے ایسے پہلو بھی ہیں جو غور طلب ہیں۔   جیسا کہ ارشاد ہوا

اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کی میعاد مقرر کی۔ اور اس (میں) دس (راتیں) اور ملا کر اسے پورا کردیا تو اس کے پروردگار کی چالیس رات کی میعاد پوری ہوگئی۔7:142

مندرجہ بالا آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ  کا واقعہ بیان کیا ہے جب حضر ت موسیٰ توریت لینے کے لئے گئے تھے، یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ  نے جب ۴۰ دن اور ۴۰ راتیں  پہاڑ پر قیام کیا تو پھر اللہ تبارک تعالیٰ نے یہاں صرف رات کا ذکر ہی کیوں کیا دن کا کیوں نہیں جبکہ حضرت موسیٰؑ تو ۴۰ دن بھی وہیں پر تھے ۔ پھر اسی طر ح  سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج پر جانے کا ذکر ہے، یہاں پر بھی  رات کا ذکر آتا ہے جیسا کہ ہم سب جانتے بھی ہیں کہ نبی پاک  صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج رات میں ہوا تھا جسے ہم شب معراج کے نام سے جانتے ہیں ،

وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجدالحرام (خانہٴ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں۔ 17:1

خصوصاََ اہل ِ علم و خرد اور تمام دیکھنے اور سننے والوں کو اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں پر تفکر کی دعوت دیجئے  اور آپ بھی تفکر کیجیئے ۔  کیا خبر کسی کی ہدایت آپکے بلاوے کی منتظر ہو ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s