ہم میں سے کافرکون


فرقیواریت کی آگ میں جلتی ہوئی آج کی مسلم اُمہ اپنے نام نہاد ملوں کی پیروی میں اس قدر حق سے دور ہوتی چلی گئی ہے کہ اب اُن تک حق کی آواز کا پہنچنا محال ہو کر رہ گیا ہے۔ جہاں اُن کو بہائیوں کی مثل رہنا تھا ، وہاں ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگائےجا رہے ہیں، جہاں ایک دوسرے کی حفاظت کرنی تھی ، کہ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اگر کسی عضوے میں تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہوجائے، پر بجائے اسکے خود اپنے ہی ہاتھوں ایک دوسرے کی عزتیں پامال ہونے لگیں، جہاں ایک دوسرے کی اصلاح کرنی تھی وہیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے لگے کہ فلاں بندہ کافر ہے فلاں فرقہ کافر ہے جب کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو شخص کسی کو کافر کہہ کر بلائے یا اللہ تعالیٰ کا دشمن کہہ کر ، پھر وہ شخص کہ جسے اس نام سے پکارا گیا ہے ایسا (کافر)نہ ہو تو کفر پکارنے والےپر پلٹ آئیگا (صحیح مسلم۔ کتاب الایمان) ، ذرا غور کیجئے یہ تو ایک رسک ہی ہے کیوں کہ جتنا چانس سامنے والے گروہ کے کافر بننے کاہوتا ہے اتنا ہی چانس اپنا بھی تو بنتا ہے، کہ وہ ہو نہ ہو ہم تو کافر ہو ہی جاتے ہیں،(جب ہم کسی مسلمان کے لئے یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ وہ کافر ہے)۔
لیکن اس سے بھی قابلِ غور بات یہ ہے کہ جب نبیءِ کریم ﷺ نے کسی کو کافر کہنے سے منع فرمادیا تھا تو ہم یہ حرکت کیسے کر سکتے ہیں۔ پھر اُس شخص کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو نبی کریم ﷺ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے اپنے مسلمان بہائی کو کافر قرار دیتا ہے۔ جب کہ آپ ﷺ نے تو کافر کو بھی کافر کہنے سے منع فرمائی ہے ۔ اس حساب سے حضور پاک ﷺ کا نافرمان کون ہوا؟ وہ جو دوسرے کو کافر کہ رہا ہے ۔ یا وہ جسے کافر کہا جارہا ہے۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
حالانکہ بنیادی طور پر کافر وہ ہوتا ہے جو اراکینِ اسلام کا منکر ہو یعنیٰ کہ جو توحید ، نماز، زکواۃ ، روزہ اور حج کا انکار کرتاہو، اور جو انکا ماننے والا ہے اسے مسلم کہا جاتاہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے جو نشانی مسلم کی ہو وہ ہی نشانی کافر کی بھی ہو، حالانکہ جو فرقے ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں وہ دونوں توحید، نماز، روزہ ، زکواۃ، اورحج کے قائل ہیں ۔
چلئےایک اور نکتے کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ کل بروزِ حشر اللہ رب العزت کچھ لوگوں کو جنت اور کچھ لوگوں کو دوزخ میں بھیجیں گے اور یہ فیصلہ اُن کے اعمال کی بنا پر ہوگا کہ ان میں سے کون مئومن اور کون کافر ہے، پھر مومنوں کو جنت اور کافروں کو دوزخ بھیجا جائے گا۔ یعنی کہ جو فیصلہ کل اللہ تعالیٰ ہی کریں گے کہ کون کافر اور کون مومن ہے۔ اسے یوں کہہ لیجئے کہ جو اختیار صرف اللہ تبارک تعالیٰ ہی کے پاس ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کون مسلمان ہے اور کون کافر ۔ تو پھر وہ اختیار ہمیں کس نے دیا کہ ہم فیصلہ کریں، کہ کون مسلم ہے اور کون کافر،کون جنت میں جائے گا اور کون جہنم حالانکہ ہم خود امید وار ہیں۔ کلاس میں کتنے بچے پاس ہوئے اور کتنے فیل یہ فیصلہ وہ ہی کرتا ہے جو امتحان لے رہا ہوتا ہے ، نا کہ وہ جو امتحان دے رہے ہوتے ہیں۔ اور یہ اختیار بھی اسی استاد کے پاس ہوتا ہے ۔
صحیح مسلم کتاب الایمان میں سیدنا اسامہ بن زیدؓ کا ایک واقعہ موجود ہے ان کی کسی کافر سے مٹھ بھیڑ ہوگئی جس میں انہوں نے اسے قتل کردیا جب کہ وہ کلمہ بھی پڑہ چکا تھا جب نبی کریم ﷺ کو اسکا علم ہوا تو آپﷺ نے حضرت اسامہ سے دریافت کیا تو انہوں جواب دیا کہ یارسول اللہ ﷺ اسنے موت کے خوف سے کلمہ پڑہا تھا اس پر آپ ﷺ نے فرمایا تو نے اسکا دل چیر کر دیکھا تھا تا کہ تجھے معلوم ہوتا کہ اسکے دل نے یہ کلمہ کہا تھا یا نہیں”۔۔ اب آپ ہی اندازا کیجئےکہ یہاں پر تو دو مسلم ایک دوسرے کو کافر کہہ رہے ہیں ۔اگر یہ ہی حرکت ہم نے آپ ﷺ کے سامنے کی ہوتی تو اُن کی ہمارے بارے میں کیا رائے ہوتی۔ کیا وہ ہم سے بہت خوش ہوتے؟؟؟؟؟
یہ کوئی فتویٰ نامہ نہیں کہ جس کے آخر میں یہ فیصلہ دیا جائے کہ آخر کون کافر ہےاور کون مسلم۔ یہ تو بس ایک چھوٹی سی کاوش ہے کہ آپ بہائیوں اور بہنوں کو اُن خطرات سے آگاہ کرتا چلوں جن کے شر سے آج کا مسلمان بہت کم محفوظ رہ گیا ہے۔ یہاں پر تو صرف یہ احساس دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہم تمام مسلم آپس میں بہائی ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنی چائیے ایک دوسرےکا ساتھ دینا چائیے۔ اور اگر کسی بہائی میں کوئی شرعی کمی پیشی نظر آئے تو اُسکی اصلاح کرنی چائیے ناکہ اُس پر کفر کے فتوے لگا کر اُس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے السلام ہی سے دور کر دینا چائیے۔ اور ایسی حرکتیں کرنے والے ہمارے مولوی بھائیوں کو چائیے کہ وہ فرقیواریت کو چھوڑکر اسلام کو مستحکم بنانے کی کوشش کریں نا کہ اپنے اپنے فرقے بنا کر اُن کی اشاعت و تدریس میں لگ جائیں، ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ نے نفرتوں کو ختم کرنے اور آپس میں پیار اور محبت کے ساتھ زندگی گزارنے کا سبق دیا ہے ۔ جب کل بروز ِ حشر نبی کریم ﷺ کا سامنا ہوگا تو ذرا سوچیں آپ اُن کو کیا مُنہ دکھائیں گے اگر آپ بھی اُن لوگوں میں شریک رہے ہیں جنہوں نے اسلام کے ٹکڑے ٹکڑے کردئے ۔ اور اللہ کے دین کو گروہوں میں تقسیم کردیا اور نتیجے میں ہر گروہ اپنے آپکو کو حق پر ثابت کرنے کے لئے دوسروں پر کفر کےفتوے لگائے جا رہا ہے۔
ہمیں چائیے کہ ہم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور آپس میں تفرقے (فرقیواریت) سےبچیں اور یہ ہی

حکم ہمیں قرآن دیتا ہے ۔

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا
ترجمہ : اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقے سے بچو

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s