Sir Nazar Soomro


ٓرٹس فیکلٹی سائیکولاجی ڈپارٹمنٹ میں کلاس روم کے باہر بدماش طلبہ کا گروہ کھڑا تھا ، آپ سمجھ گئے ہونگے کہ کوایجوکیشن میں اگر لڑکے کسی کلاس روم کے باہر کھڑے ہوتےہیں تواس کا کیا مطلب ہوتا ہے ؟  خیر آپ تو بہت اچھی طرح سے سمجھ گئے ہونگے  میرے بتانے کا تو کوئی فائدہ نہیں۔   جی تو میں عرض کر رہا تھا کہ کلاس روم کے باہر بدماش لڑکے کھڑے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کررہے تھے  ، دراصل  آرٹس فیکلٹی کے سامنے ایک ہرابھرا گرائونڈ تھا جس کو چاروں اور گھنے درختوں نے اپنی باہوں میں لیا ہوا تھا جس کے کنارے حسین و جمیل پھولوں سے لبریز دیکھنے والوں کی آنکھوں کو ٹھنڈک مہیاکرنے میں اپنی مثال آپ تھے  یقینن ایسا پر لطف نظارا  تو آنکھوں کے لئے اکسیر سے  کم نہیں ۔ ویسے بھی ڈاکٹز کا کہنا ہے کہ صبح صبح ننگے پاوٗں ہری گھاس پر ٹھلنا آنکھوں کو طاقت دیتا ہے ۔ شاید اسی لئے وہ لڑکے جس میں یہ ناچیز بھی شامل تھا  ، کھڑے نظارے کا لطف اٹھاررہے تھے  کہ اچانک ایک لمبا چوڑا نوجوان  لیپ ٹوپ بیگ کندھے میں لٹکائے ہوئے گذرتا ہوا چیرپرسن کی آفیس میں گیا ،  ہم لوگوں کی آپس میں بحث چھڑگئی کسی کا خیال تھا کہ یہ کوئی فائنل ییئر کا اسٹونڈنٹ ہے،  کسی نے اپنا خیال ظاہر کیا۔۔۔۔۔ حالانکہ ہماری قوم کی ایک بڑی خاصیت یہ بھی ہے کہ ہم تبصرہ بہت اچھاکر لیتے ہیں، اور سچ پوچھیں تو ہم اپنے فارغ اوقات میں یہ ہی کام کرتے ہیں ، اور سب سے اچھا تبصرہ سیاست میں ہم سے بہتر تو کوئی کر ہی نہیں سکتا ۔ آپ کو مجھ پر یقین نہ آئے تو اپنے اندر ہی جھانک لیں  نہیں تو اپنے آس پاس ہی آپکو کوئی نہ کوئی تو  سیاست پر تبصرہ کرتا ہوا مل ہی جائے گا  ۔  جب میں یونیورسٹی کے لئے گھر سے نکلتا تھا تو روزانہ دو  بزرگ جو ہمارے  محلے میں رہتے تھے گلی کے کونے پر بیٹھے ملکی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے ملتے  تھے مینے کبھی بھی انہیں کسی اور موضوع پر بات کرتے نہیں سنا  ۔  حالنکہ ان بچاروں کی بھی میری طرح سنتا تو کوئی بھی نہیں تھا مگر وہ ایک دوسرے کو سنا کر اپنا بوجھ ہلکا کردیتے تھے ، ۔۔۔۔۔۔ ٹھیک اسی طرح ہمیں بھی ایک موضوع مل گیا تو لگ  گئے تبصرہ کرنے  اچانک ہمارے ایک دوست اپنی چھٹی حس کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگا کہ  جہاں تک مجھے محسوس ہو رہا ہے تو  یہ ہمارے ٹیچرہیں   جو باہر (فارین) سے آئے ہیں ،  اور ایک مخصوص سبجیٹ ہمیں آج سے یہ پڑھائیں گے ، اسکی  یہ پیشنگوئی ایک دم درست نکلی جونہی کلاس ٹائیم ہوا تو وہ صاحب آن کھڑے ہوئے ،  حالانکہ وہ ہمارا  دوست کوئی جوتشی یا بابا نہیں تھا اور ناہی اس پر کوئی فقیر آتا تھا جس نے اسے یہ خبر دی تھی ، وہ نالائق پہلے سے ہی چیرپرسن کی آفیس سے  سن کر آیا تھا ۔ بس ہمیں ماموں بنا رہا تھا ، اور ہم تھے کہ ماموں بن گئے ، اور بنتے کیوں نا ، ہم تھے کہ جن کے نصیب میں کلاس ہوتی تھی مگر کبھی کبھی  ، ہم کھلی ہواٗوں اور فضاوٗں سے گیان پانے میں یقین رکھتے تھے ، اور وہ بس کلاس کلاس کلاس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آہ ۔۔۔۔۔۔۔ کیا خبر تھی کہ پہلی ملاقاتیں اتنی انمول ہوتی ہیں  ؟

کہ جب بھی کوئی اپنا ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہوجاتا ہے تو ہمیں اسکی یادوں میں پہلی ملاقات  اتنی کیوں یاد آتی ہے ، وہ لمبے چوڑے کندھے میں لیپ ٹاپ بیگ اٹھائے گذرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ سر نظر حسین سومرو صاحب تھے آپ  سندہ یونیورسٹی میں  علمِ نفسیات کے شعبہ سے وابستہ تھے آپ کا لیکچر شاید آج بھی طلبہ نہ بھلوے ہوں ، آپ نہایت ئی صاف گو اور  علم ِنفسیات میں وسیع اور گھری تحقیق  کے مالک تھے

آپنے سندہ یونیورسٹی جامشورو سے  1998 میں ایم ایس سی سائیکولاجی  کی ڈگری حاصل کی

اور   2004 میں یو اس اے سے ایجوکیشنل سائکولوجی میں  ایم ایڈ کی ڈگری حاصل کی ۔

چونکہ یونیورسٹی لائف کے بعد ہم لوگ سر سومرو صاحب  سے رابطہ قائم نہ رکھ سکے تھے  لیکن   مارچ  2010  میں مینے علم ِنفسیات کے حولے سے فیس بک پر ایک پیج بنایا تھا تاکہ ہمارے دوست اپنی اپنی  تحریریں اس پر رکھ سکیں تاکہ عام دوست جو کہ اس علم سے قطعی ناواقفیت کا شکا رہیں  انہیں علمِ نفسیات کو جاننے کا موقع ملے اسی حوالے سے مینے اپنے اساتذہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ، اور یونیورسٹی کے بعد پہلی مرتبہ ایسا تھا کہ میرا سر سومرو صاحب سے رابطہ ہوا آپ اس وقت یونیورسٹی آف یارک میں  پی ایچھ ڈی کے سلسلے میں گئے ہوئے تھے ، آپنے میری اس کوشش کو بہت سراہا  اور میری بہت حوصلہ افزائی کی  ۔  وہ نہایت ئی شفیق اور محسن انسان تھے ۔کیا خبر تھی کہ وہ  ہم میں صرف کچھ عرصہ گذارنے کے لئے  ہی آئے تھے ؟ کیا خبر تھی کہ  ہم اپنی بدماشیوں کی معافی کے لئے انہیں کہیں ڈھونڈ بھی نہ پائیں گے ۔

اللہ رب العزت آپکی روح کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s